Tuesday, 25 March 2014

Qeyam-e-Aman aur Islam



لفظ ’امن ‘خوف کی ضدہے۔ یہ عربی زبان کا لفظ ہے ،لیکن اس کا استعمال اردوہندی زبان میں یکساں طورپر ہوتا ہے۔  اس میں  چین، اطمینان، سکون و آرام کے علاوہ صلح وآشتی اور  پناہ کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ۔ امن معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے۔  اس کے بغیر انسان اور  درندہ میں  کوئی فرق باقی نہیں  رہ جاتا۔  معاشرہ کی تعمیروترقی کے لیے امن کا ہونا نہایت ضروری ہے۔  چنانچہ روزاول سے ہی یہ ایک اہم مسئلہ رہاہے اور آج کے پرفتن دورمیں یہ مزید اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ حضرت آدمؑ سے لے حضرت محمدﷺ تک جتنے بھی انبیاء اس دنیامیں  تشریف لائے، انھوں نے امن وامان کی بحالی، ظلم و ناانصافی کا خاتمہ اور حقوق کی ادائیگی کو اہمیت دی ہے۔  حضرت ابراہیم ؑاوران کے فرزندحضرت اسماعیل ؑ جب خانہ کعبہ کی تعمیرمیں  لگے ہوئے تھے ، اس وقت انھوں نے شہر مکہ کے لیے یہ دعا فرمائی تھی :
رب اجعل ہذا البلد اٰمناً (ابراہیم:۳۵)                         اے میرے پروردگاراس شہر(مکہ)کو جائے امن بنادیجئے۔
اگرموجودہ دور کا جائزہ لیاجائے تو تعصب، ذاتی منفعت کے بے جاحصول اور  فرقہ پرستی نے ایسا ماحول بنادیاہے کہ ظلم کوظلم نہیں  سمجھا جاتا۔  دن دھاڑے بستیاں  جلادی جاتی ہیں ۔  عبادت گاہیں  منہدم کردی جاتی ہیں ۔ بے قصور لوگ قصوروارگردانے جاتے ہیں اور ناکردہ جرم کی پاداش میں انھیں  انسانیت سوز تکالیف کا سامناکرنا پڑتا ہے،انصاف کی عدالت سے جب تک ان کے بے گناہ ہونے کا فیصلہ صادر ہوتاہے تب تک ان میں سے کچھ نصف عمراندھیری کو ٹھری میں  گزار چکے ہوتے ہیں  جب کہ کچھ انصاف کی امید میں  اس جہاں  کوہی الوداع کہہ جاتے ہیں ۔
انسانی زندگی امن وطمینان کی خواہاں  ہوتی ہے، اس لیے ہرمذہب میں  امن واطمینان عدل وانصاف اور سلامتی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ امن کا پیغام دینے والا مذہب ’’دین اسلام‘‘ جس کے بارے مخالفین نے عام لوگوں  کے درمیان غلط پروپگنڈا کررکھا ہے اور اسے دہشت اور  وحشت کا معنی بنادیا ہے۔  مگر تاریخ  اس پر گواہ ہے اور اس سے واقفیت رکھنے والے حق پسند حضرات، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ، اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں  کہ اسلام درحقیقت انسان کوامن وسلامتی کاپیغام دیتا ہے۔  جس کی تعمیرآپسی محبت اور باہمی مساوات سے ہوتی ہے۔
اسلام سے قبل سرزمین عرب کی تاریخ پر نظرڈالی جائے تومعلوم ہوگا کہ عرب قوم ایسی ظالمانہ ، وحشیانہ اور جابرانہ تھی کہ معمولی سی بات پر دوقبیلے صدیوں  تک آپسی جنگ جاری رکھتے اور  انتقام کی آگ میں  جھلستے رہتے تھے خواہ اس کے لیے سینکروں  جانیں  لینی یادینی پڑیں  ،مگرانھیں  اس کی کوئی پرواہ نہ ہوتی تھی۔  گویا انتقام کے لئے انسانی جان کی کوئی قیمت اور وقعت نہ تھی۔  تعصب کا حال یہ تھا کہ ہرامیر غریب کو ستاتا اور  طاقتور کمزوروں  پرظلم ڈھاتا تھا۔  لوگوں نے اپنی تخلیق کا مقصدبھلادیاتھااورخودتراشیدہ بتوں کواپنا معبود حقیقی سمجھ کران کی پرشتس کرناان کامعمول اور  خود ساختہ راہ اختیارکرتے ہوئے فساد و بگاڑ پیدا کرنا ان کا شیوہ بن چکاتھا۔ اس کے نتیجے میں  ظلم وزیادتی،قتل وغارتگری،چوری وبدکاری اور  بداخلاقی کابازارگرم ہوگیاتھا۔ معاشرتی زندگی تباہ و بربادہوچکی تھی اور امن و امان پوری طرح پامال ہو چکا تھا۔ ایسے پرخطرحالات میں  جب انسانیت دم توڑرہی تھی ’’اسلام‘‘نے آپسی محبت کاپیغام سناتے ہوئے انسانی جان کی قدروقیمت بتائی اور  بدامنی کے ماحول پر روک لگادی۔
  من قتل نفسا بغیرنفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا۔  ومن احیاہا فکانما احیا الناس جمیعا (مائدۃ: 32)
’’جس نے کسی انسان کوخون کے بدلے یا زمین میں  فسادپھیلانے کے سواکسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویاتمام انسانوں کا قتل کردیا اور جس نے کسی کوزندگی بخشی اس نے گویاتمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ ‘‘
گویا اسلام کی نظر میں ناحق کسی ایک آدمی کاقتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلام کسی ایک فردکا قتل تودرکنار اس کی ایذاررسانی کوبھی پسند نہیں  کرتا۔ اللہ کے رسول ﷺکا ارشادہے۔
واللہ لایومن واللہ لایومن واللہ لایومن۔ قیل ومن یارسول اللہ ؟ قال الذی لایامن جارہ بوائقہٗ۔ (بخاری)
بخدا وہ مومن نہیں  بخداوہ مومن نہیں  ،بخداوہ مومن نہیں ۔ دریافت کیا گیا،کون اے اللہ کے رسول !آپ ؐ نے فرمایاوہ جس کا پڑوسی اس کے ظلم وستم سے محفوظ نہ ہو۔
افراد کے یکجا رہنے  سے معاشرے کی تعمیر ہوتی ہے ،جہاں  لوگ آبادہوتے ہیں  وہاں  پڑوسیوں  کا ہونا لازمی ہے۔ ان کا باہمی میل جول رکھنا اور آپس میں  ایک دوسرے اذیت نہ پہنچانا ہی قیام امن ہے۔  اسی لیے پڑوسی پرظم کرنا اسلام کی علامت نہیں  ہے خواہ وہ پڑوسی کسی بھی مذہب کا ماننے والاہو،وہ انسان ہے اس لئے ان سے محبت اور حسن سلوک کرنا چاہئے۔ اسلام نے ایسے شخص کوبدترین انسان قراردیاہے جس سے نہ خیرکی توقع ہواورنہ لوگ اس کے شرسے محفوظ رہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادہے:
’’تم میں  بدترین شخص وہ ہے جس سے دوسرے لوگوں  کونہ خیرکی امیدہو نہ اس کے شرسے لوگ محفوظ ہوں ‘‘
(ترمذی باب الفتن)
ایک دوسرے سے نفرت کے بجائے محبت کا شوق دلاتے ہوئے اسلام کہتاہے ’’  لایرحمہ اللہ من لایرحم الناس‘‘ جولوگوں پررحم نہیں کرتاخدابھی اس پررحم نہیں  کرتا ہے۔  دوسری جگہ ارشاد ہے:
الراحمون یرحمہم الرحمن ارحمومن فی الارض یرحمکم من فی السماء    (ترمذی)
رحم وکرم اور دوگذرکرنے والوں پرخدابھی رحم کرتاہے۔ لہذاتم زمین والوں پررحم کرو، آسمان والاتم پررحم کرے گا۔
پیغمبرامن ﷺ کی سیرت نبوت سے قبل بھی اتنی ہی شاہکارتھی جتنی کہ نبوت کے بعد تھی۔  آپ ﷺ امن کے لیے ہمیشہ کوشاں  دکھائی دیتے تھے۔  حلف الفضول کا واقعہ اس کا شاہد ہے ۔ جب دنیائے عرب میں  حق تلفی ،بدامنی اور فسادکا ماحول تیزہوگیاتھا۔ ایسے حالات میں  مظلوم و بے بس لوگوں کی فریادسنی گئی اور  ایک تاریخی منشور لانے کے لیے قریش کے چند قبائل نے اقدام کیا،جس کا نام’’حلف الفضول ‘‘ہے۔  جوقیام امن ،بنیادی انسانی حقوق اور بے بسوں  کی دادرسی کا تاریخ ساز معاہدہ قرارپایا۔ نبیؐ اس معاہدہ کے ایک اہم رکن تھے۔  اس معاہدہ کے لیے آپ نے عین شباب میں  بھرپور تعاون اور مؤثر کردار ادا کیا۔  اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ آپؐ نے دور نبوت میں  ایک موقع پر ارشادفرمایا:’’اس معاہدہ کے مقابلہ میں  اگرمجھے سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تومیں  نہ لیتا اور آج بھی ایسے معاہدے کے لیے کوئی بلائے تو میں  شرکت کے لیے تیار ہوں ۔ ‘‘
بعثت سے پانچ سال قبل جب قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیرنو کا ارادہ کیاجب حجراسودکو اس کی جگہ رکھنے کی نوبت آئی تو قبائل کے مابین خانہ جنگی شروع ہوگئی ۔  حتی کہ لوگ خون بھرے برتن میں  ہاتھ ڈبوڈبوکر مرنے اور مارنے کی قسم کھانے لگے۔  کئی روز گزرجانے کے بعد یہ طے ہوا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے مسجد حرام کے دروازے سے داخل ہواسی کو اپنا حکم بناکر فیصلہ کرالو۔ سب اس رائے پر متفق ہوگئے۔  صبح ہوئی اور تمام لوگ جب حرم میں  پہنچے تو دیکھا کہ سب سے پہلے آنیوالے محمد ﷺ ہیں ۔ آپ کو دیکھ کر تمام لوگ بے ساختہ پکار اٹھے:
ہذا محمد الامین رضینا ہذا محمد الامین   (یہ تومحمد ہیں  جوامانت دار ہیں  ہم انھیں حکم بنانے کو تیار ہیں )
آپ نے ایک چادرمنگائی اور  حجراسود کو اس میں  رکھ کر فرمایاکہ ہرقبیلہ کا سرداراس چادر کو تھام لے تاکہ اس شرف سے کوئی قبیلہ محروم نہ رہے ۔  اس فیصلہ کو سب نے پسند کیا ۔ سب نے مل کر چادر اٹھائی۔ اس طرح امن کے علمبردار نے بڑی حکمت سے کام لیا اور آپ کے اس فیصلے پر صلح کے ساتھ ایک بڑے فساد کو خاتمہ ہوا۔  (سیرۃ المصطفی ص:۱۱۳)
لفظ ’’اسلام ‘‘کا مادہ (س ل م) خودسلامتی اور حفاظت کا پتہ دیتاہے۔ اگرغورکریں  تودنیا میں  تین چیزیں  ہی عدل وانصاف اور ظلم و جور کا محور ہیں  جان، مال اور آبرو۔ یہ وہ چیزیں  ہیں  جن میں  انصاف نہیں  کیاجائے تویہ امن و سلامتی کو گزندپہنچاتی ہیں ۔ اسی کے پیش نظر نبی کریم نے حجۃ الوداع کے طورپر جو تاریخ ساز خطبہ دیا تھا۔  اس  میں  ایک دفعہ یہ بھی  تھی:
فان دماء کم واموالکم واعراضکم بینکم حرام،کحرمۃ یومکم ہذا، فی شہرکم ہذا،فی بلدکم ہذا۔  (بخاری)
’’یقینا تمہارا خون،تمہارا مال اور تمہاری آبروآپس میں  (تاقیامت)اسی طرح محترم ہے جس طرح یہ دن،اس مہینہ میں  اور اس شہرمیں  محترم ہے۔ ‘‘
محسن انسانیت پیغمبراسلام نے دشمنوں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کیا۔ ایک مرتبہ ایک دشمن نے اچانک آپ کی تلوارلے لی اور کہنے لگا  ’’من یمنعک منی‘‘  (تمہیں  مجھ سے کون بچاسکتاہے؟) آپ نے فرمایا ’’اللہ‘‘یہ سنتے ہی تلواراس کے ہاتھ سے گرگئی آپ نے تلواراپنے قبضے میں  لے لی مگراسے معاف کردیا اور  اس سے درگزرکیا۔ فتح مکہ کے وقت آپؐ چاہتے توان لوگوں  کا قتل کروادیتے ،جنھوں نے آپ سے دشمنی کی تھی ۔  مگرانسانیت کے تحفظ وبقا کے علمبردارحمۃ اللعالمین نے یہ فرمان جاری کیا  ’’اذہبوا انتم الطلقائ‘‘ جاتم سب آزادہو ۔ یہ قیام امن کی بہترین مثال ہے۔
پامالی امن کے اسباب
اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فتنہ اور  فساد کو جڑسے ہی ختم کردیتاہے ۔ ظلم اور فساد کی جو بنیادہے کبر، گھمنڈ، خودغرضی، دورخاپن،غصہ ، حسد اور کینہ وغیرہ اسلام ان رذائل کواسلام سخت ناپسندیدہ عمل قراردیتا ہے اور  ان کے مرتکب شخص کی اصلاح بھی کرتاہے،تاکہ امن وامان کی اس فضا کو ان آلودگیوں  سے پاک رکھا جاسکے۔
اسلام میں  باہمی مساوات کی  تعلیم انسان کے گھمنڈکوخاک میں  ملادیتی ہے ۔  پھر کبر کی کوئی گنجائش باقی نہیں  رہ جاتی۔ اسلام کہتاہے کہ  اس دنیا میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت اور برتری نہیں  ہے، ہرانسان آدم کی اولاد ہے، جس کواللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیداکیا۔  فتح مکہ کے موقع پرآپ نے ارشاد فرمایا :
یاایہا الناس الآان ربکم واحد وان اباکم واحد الآلافضل لعربی علی عجمی  ولالعجمی علی عربی ولاالاحمرعلی اسود ولاالاسودعلی احمرالابالتقوی۔ (مسنداحمد)
 ’’اے لوگو! بلاشبہ تمہارارب ایک ہے اور تمہارباپ بھی ایک ہی ہے ،جان لوکہ کسی عربی کوکسی عجمی پراورنہ کسی عجمی کوکسی عربی پر،نہ کسی سرخ کوکسی سیاہ پر اور نہ کسی سیاہ کو کسی سرخ پرکوئی فضیلت اور برتری حاصل ہے سوائے تقوی کے ‘‘
لہذانام ونسب اور  خاندان کی وجہ سے کسی شخص کوکسی پرفخرکرنے کاکوئی حق نہیں اور نہ کسی کی تحقیروتذلیل کرنااس لئے رواہے۔ یہی بات قرآن کریم کی درج ذیل آیت میں  کہی گئی ہے:
یاایہاالذین آمنوالایسخرقوم من قوم عسی ان یکونواخیراًمنہم ،ولانساء عسی ان یکون خیرامنہن ولاتلمزواانفسکم والاتنابزوا بالالقاب۔ بئس الاسم الفسوق بعدالایمان ومن لم یتب فاولئیک ہم الظالمون۔  (الحجرات:۱)    ’’اے ایمان والو!کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہترہواورنہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کامذاق اڑائیں  ممکن ہے وہ ان سے بہترہوں ،اورنہ ایک دوسرے کوطعنہ دو،اورایک دوسرے کوبرے لقب سے پکارو ،ایمان لانے کے بعدبرانام رکھناگناہ ہے، اور جوتوبہ نہ کرے وہ ظالم ہے۔ ‘‘
رہی بات حسب ونسب اور خاندان کی تواس کامقصدصرف ایک دوسرے کاتعارف ہے۔  جسے خالق جہاں نے اپنے کلام پاک میں  اس طرح بیان فرمایاہے ۔
یاایہاالناس اناخلقناکم من ذکرووانثی وجعلناکم شعوباًوقبائل لتعارفوا۔ ان اکرمکم عنداللہ اتقکم ۔    (الحجرات:۱۳) اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیداکیا۔ (یعنی سب کی اصل ایک ہی ہے)اور تمہیں  خاندانوں  اور قبیلوں میں بانٹ دیاتاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو،بے شک اللہ کے یہاں  تم سب میں زیادہ عزت والا وہ ہے جوتم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والاہے۔
اس کا مشاہدہ مسجدوں  میں بخوبی کیاجاسکتاہے ،جہاں  تمام افراد بلا امتیاز قد و قامت اور  شان شوکت ،کندھے سے کندھا ملائے کھڑے نظرآتے ہیں ۔  یہ  خوبی بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا    ؎
ایک ہی صف میں  کھڑے  ہوگئے محمود و عیاض           نہ کوئی بندہ رہا اور  نہ کوئی بندہ نواز
ہاں !  اگرکسی شخص کو برتری چاہئے تویہ صرف تقوی کے ذریعے ہی حاصل ہوسکتی ہے اور  تقوی کا مطلب ہے خداکاخوف پیش نظررکھنا اور  اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا۔
امن وامان کی پامالی میں حب جاہ ومال کابھی بڑادخل ہے ۔  دیکھا جاتا ہے کہ لوگ دنیاوی اعتبار سے خود کومالدارسمجھ کراپنے کو بڑاسمجھنے لگتے ہیں ۔   اس کی ہوس میں  اندھے،بہرے اور گونگے بن کر ایک گناہ کرتے چلے جاتے ہیں  ،جس سے ماحول پر بہت برا اثر پڑتاہے اور معاشرہغیرمامون ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتاہے۔  اگرمالداری قابل فخرہوتی توقارون سے زیادہ قابل فخرکوئی نہ ہوتا  اور ہمیشہ اس کا ذکر خیر ہوتامگرایسا نہیں ہے۔
انسانی زندگیمیں کچھ اقداریں  ہوتی ہیں  جن کی حفاظت نہایت ضروری ہے۔ اگران کی حفاظت نہ کی جائے توانسان ایک درندہ صفت حیوان بن جاتاہے ۔ اسی کے پیش نظر اسلام نے ناحق قتل ،غارتگری،شراب خوری، فحاشی و زنا کاری، بداخلاقی وبدکاری سے منع کیاہے۔  تاکہ تمام انسان اس کائنات میں  وہ امن وسکون کے ساتھ زندگی گزارسکیں ۔
قیام امن کے لیے آخرت کی جوابدہی کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ اسلام یہ تصور پیش کرتاہے کہ یہ دنیا فانی ہے، اسے ایک دن ختم ہوناہے ۔  اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ، جہاں  خداکے حضورپیش ہو کر انسان کو اپنے عمل کا حساب دینا ہے ۔  آخرت کی زندگی بہترہے جو ہمیشہ باقی رہے گی۔  (والآخرۃ خیروابقی)۔  عام انسان بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ دنیا میں  پیداہونے والا ہرانسان محض چند روزکی زندگی لے کر آیا ہے۔  اسے کچھ پتہ نہیں  کہ اس کی سانس کب رک جائے گی اور کب وہ دنیاسے چلاجائے گا۔  اس لیے مسلمانوں  ہی کا نہیں  بلکہ پوری دنیاکا سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسا نظام قائم ہوجس میں قیام امن کے لیے عدل و انصاف کواساسی مقام حاصل ہو جو ہرشخص کواس کا حق دے ، کسی کوکسی پر کسی طرح کا ظلم نہ کرنے دے ، امن واطمینان کا خوشگوار ماحول ہو۔
یہ عادلانہ نظام  پیغمبرآخرمحمدﷺکی جفاکشی اور صحابہ ٔ کرام ؓ کی جاں فشانیوں کے نتیجہ میں  قائم ہواتھا،اسے خلافت ِ راشدہ کا نام دیا جاتا ہے، جسے دوسرے لفظوں  میں  نوع انسانی کامحافظ ادارہ کہنا درست ہوگا۔ موجودہ حالات جس طرح اسلام کوبدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے اس سے اہل اسلام کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں  ہے اور نہ ہی جذبات میں  آکرکوئی غلط قدم اٹھانے کی۔ کیوں کہ جس طرح نام بدل دینے سے شی کی حقیقت نہیں  بدلاکرتی ٹھیک اسی طرح اسلام کو جوامن وسلامتی کا ضامن ہے، دہشت گردیا انسانیت دشمن قراردے کراس کی حقیقت کوبدلانہیں  جاسکتا۔ یہ تو دین ہدایت ہے جو انسان کو انسان کی طرح زندگی گزارنے کا طریقہ بتاتاہے اور قیام امن کے لیے آپسی محبت اور  باہمی مساوات کاپیغام دیتاہے۔

اس لیے ہم علم وعمل ، گفتار وکردار، نشست وبرخاست کومکمل طورپر اسلامی سانچے میں  ڈھالیں  اور اعداء کے ہر پروپگنڈہ کا حکمت ودانش مندی سے مثبت انداز میں  دندان شکن جواب دیں ۔                ٭٭٭